
میں ہی حملہ آور کا ہدف تھا، فائرنگ کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں: امریکی صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میڈیا عشائیہ میں فائرنگ کے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ مشتبہ شخص نے 50 گز دور سے حملے کی کوشش کی، خیال ہے ہدف میں ہی تھا، میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سےتعلق نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ، خاتون اول، نائب صدر کی موجودگی میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، ایک اہلکار کو گولیاں لگی ہیں جبکہ حملہ آور پکڑا گیا ہے، ملزم انتہائی بیمار انسان ہے، ہم نہیں چاہتے کہ اس طرح کے واقعات پیش آئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے، مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے، سیکریٹ سروس نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی، مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نے فورا کہا بری آواز ہے، میلانیا شدید صدمے میں ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس شخص نے 50 گز دور سے حملے کی کوشش کی، ایک اہلکار کوگولی لگی مگر بُلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سےمحفوظ رہا، میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ جس اہلکارکو گولی لگی، میں نےاس سے بات کی ہے، کئی سال میں یہ پہلا موقع نہیں کہ ری پبلکنز پرحملہ ہوا، گرفتار مشتبہ حملہ آورکا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، اہلکاروں نے بروقت اقدام کرکے ہزاروں افراد کی جانیں بچائیں، جلد معلوم کرلیں گے کہ آیا یہ واحد شوٹرتھا
صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنا ہوں گے، ہم 30 دن میں اس سے بڑی تقریب منعقد کریں گے، ہم اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سیاسی محرکات کے تحت ہونے والے حملوں پر نہیں بلکہ ہر قسم کے تشدد پر تشویش ہے۔
انہوں نے صدارت کے پیشے کو لاحق خطرات کا موازنہ ریسنگ کار ڈرائیونگ اور بیل سواری جیسے خطرناک شعبوں سے کیا، اور دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 5.8 فیصد امریکی صدور پر فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے، بطور کمانڈر ان چیف آپ کو خطرات مول لینے پڑتے ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مارکو نے مجھے یہ سب پہلے بتا دیا ہوتا تو شاید میں صدر کے لیے انتخاب ہی نہ لڑتا۔
واضح رہے کہ مارکو روبیو 2016 کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پرائمری کے امیدوار تھے، تاہم ٹرمپ کے جماعت کا ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد وہ دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے۔
صدر ٹرمنپ کا مزید کہنا تھا کہ تمام خطرات کے باوجود وہ ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں اور وہ ایسے واقعات کے بارے میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتے۔
ان کے مطابق خاتونِ اول کو بھی اس شعبے سے لاحق خطرات کا اعادہ ہے اور یہ ان کے لیے بھی خطرناک ہے۔
49 مناظر