
ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب
ایرانی قیادت کی جانب سے ایک سخت اور واضح پیغام میں قومی اتحاد پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی قسم کی داخلی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک انقلابی سوچ کے تحت متحد ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے اندر کسی قسم کی نظریاتی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک ایرانی اور انقلابی شناخت کے تحت متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم اور حکومت کے فولادی اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی مکمل اطاعت کے ساتھ ایران ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، جو بھی ایران کے خلاف اقدام کرے گا، اسے اپنے عمل پر پچھتانا پڑے گا۔
ایرانی صدرنے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا راستہ ایک ہی ہے، ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما اور ایک منزل پر مشتمل ہے اور وہ منزل ایران کی فتح ہے جو قوم کے لیے جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران میں کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند نہیں بلکہ تمام شہری ایک قوم اور انقلابی شناخت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم اور حکومت کے مضبوط اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی مکمل اطاعت کے ساتھ ایران ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گا۔
باقر قالیباف کے مطابق ایران کا راستہ ایک ہی ہے، ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما اور فتح کے راستے پر مبنی ہے اور یہی راستہ ملک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
دریں اثنا ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت اور کارروائیوں کے باوجود ایران کے ریاستی ادارے اتحاد، مقصد اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ اور سفارت کاری دونوں ایک ہی جنگ کے دو مربوط محاذ ہیں اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کے عوام پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور قومی اتحاد میں کسی قسم کی دراڑ نہیں پائی جاتی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کےاندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی حکومت بدحالی اور انتشار کا شکار ہے۔
19 مناظر