لاہور ہائیکورٹ نے سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے مسترد کردی۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مجرم کو عمر قید کی سزا درست سنائی گئی ہے، عدالت کے ذہن میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ مجرم نے وقوعہ نہ کیا ہو۔
فیصلہ میں کہا گیا کہ مجرم اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہا، موجودہ ثبوت اور شہادتوں کی روشنی میں مجرم پر جرم ثابت ہوتا ہے۔
عدالت کے مطابق ڈی این اے سمیت بچی کے کپڑے اور کانوں کی بالیاں مجرم سے برآمد ہوئی، جبکہ بچی کی چپل بھی مجرم مجاہد سے پولیس نے برآمد کروائی۔
مدعیہ شاہین نور نے خوشاب میں بیٹی سے زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کروایا۔
یاد رہے کہ مجرم کو ٹرائل کورٹ نے 2022 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم مجرم کا ڈی این اے بھی بچی کے ساتھ میچ کرگیا تھا۔
یہ تحریری فیصلہ جسٹس محمد وحید خان نے مجرم محمد مجاہد کی اپیل پر جاری کیا۔
