• ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی، ایف 16 طیارہ گرانے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 30 ویں روز میں داخل ہو گئی، ایران کے پاسداران انقلاب نے آج حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی کرنے اور ایف 16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیل کے لبنان اور ایران میں شہری علاقوں پر وحشیانہ حملے جاری ہیں۔
    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنوبی فارس میں ایک امریکی ایف 16 طیارہ مار گرایا، طیارہ سعودی ایئر بیس پہنچنے سے پہلے کریش ہوگیا، مقبوضہ فلسطین اور خطے میں امریکی و اسرائیلی صنعتوں پر شدید حملے کئے ہیں، آئندہ ایرانی صنعتوں پر حملہ ہوا تو نتیجہ سوچ سے برا ہوگا۔

    پاسداران انقلاب نے مزید بتایا کہ حیفہ میں سٹریٹجک الیکٹرونک وار فیئر سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، بن گورین ایئر بیس پر ایندھن کے ذخیروں پر بھی حملہ کیا گیا۔
    یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی اسرائیل کے کچھ حصوں میں دوسرا حملہ کیا ہے، کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے یہ حملے کیے جن کا ہدف اسرائیل کی کئی اہم فوجی تنصیبات تھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ایران اور حزب اللہ کی متعلقہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ مل کر کیے گئے تھے اور اپنے مقاصد میں کامیاب رہے اور آئندہ چند دنوں میں مزید حملے کیے جائیں گے جب تک کہ دشمن اپنی حملوں اور جارحیت کو بند نہیں کرتا۔
    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران ایران کے خلاف جنگ میں 11 ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے، ان حملوں کے دوران ایران کے 150 سے زائد جہازوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔
    امریکی اخبار کے مطابق امریکا نے ایران کے ساحلی علاقوں بشمول خارگ جزیرے پرزمینی کارروائی کی تیاری کرلی، ایران میں محدود زمینی کارروائی خصوصی دستے اور روایتی فوجی کریں گے۔

    امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ہفتوں پر مشتمل زمینی جنگ کی تیاری کر رہا ہے، امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ زمین فوج کی تعیناتی کی منظوری دیں گے یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ سمیت متعلقہ ادارے این پی ٹی سے ایران کے دستبردار ہونے پر غورکر رہے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کا کہناہے کہ واضح ہو چکا ہے کہ ایران کے این پی ٹی میں رہنے کا جواز ہی نہیں بچا، اقدام کا مقصد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے بھیس میں امریکا اور اسرائیل کو ایران کی مزید جاسوسی سے روکنا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی بجلی گھروں پر حملے کیے جارہے ہیں اورآئی اے ای اے اس کی مذمت تک نہیں کر رہی۔
    ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہےکہ وہ انتقامی کارروائی کے دوران اب خطے میں اسرائیل اور امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنائیں گے۔

    پاسداران انقلاب نے یونیورسٹیوں کے عملے، طلبہ اور ان جامعات کے قریب رہنے والے عام شہریوں کو کہا ہے کہ وہ اپنی جانیں محفوظ رکھنے کے لیے ان تعلیمی اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر کا فاصلہ رکھیں۔

    پاسداران انقلاب نے یہ دھمکی تہران میں واقع ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کے ردعمل میں دی ہے، جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے جان بوجھ کر ایران کی کئی جامعات اور تحقیقی مراکز پر حملے کیے

    95 مناظر