• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • آبنائے ہرمز میں مائنز بچھانے والی 16 ایرانی کشتیاں تباہ کر دیں: سینٹ کام کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام ) نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 ایرانی کشتیاں تباہ کر دیں۔
    سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فورسز ایرانی حکومت کی سمندری طاقت کم کر رہی ہیں، جہاز رانی اور عالمی بحری سلامتی کی حفاظت جاری رہے گی۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں دعویٰ کیاکہ امریکی فورسز نے گزشتہ چند گھنٹوں میں سرنگیں بچھانے والی 10کشتیوں اور جہازوں کو مکمل تباہ کردیا۔

    دوسری جانب ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو مزید کارروائیاں کریں گے، ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں مائنز بچھانے کی رپورٹ نہیں، اگر مائنز بچائی ہیں تو فوری طور پر ہٹا دیں، بارودی سرنگیں نہ ہٹائیں تو ایران کو خوفناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران بچھائی گئی مائنز ہٹا دے تو درست سمت میں بڑا قدم ہوگا، ہم وہی ٹیکنالوجی اور میزائل صلاحیتیں استعمال کر رہے ہیں جو منشیات سمگل کرنے والی کشتیوں کے لئے استعمال کی تھیں، خوشی ہے گزشتہ کچھ گھنٹوں میں یہ کارروائیاں کیں۔

    امریکی انٹیلی جنس کے مطابق اشارے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے۔

    امریکا کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کرنے سے انکار

    دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو حفاظت فراہم کرنے کی شپنگ انڈسٹری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

    امریکی بحریہ نے شپنگ اور تیل کی صنعت کے نمائندوں کو بریفنگ میں بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال وہ جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اس لیے بحری جہازوں کو فوجی حفاظت دینا ممکن نہیں، یہ صورت حال امریکی صدر کے اس بیان سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کرے گا تاکہ اس اہم گزرگاہ سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔

    خیال رہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی تجارت معطل ہو چکی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    67 مناظر