• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کیا کرتے پھر رہے ہیں ؟

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کیا کرتے پھر رہے ہیں ؟

    تحریر: جاوید کمیانہ

    میرے سمیت اکثر صحافت کے طالب علم افسر شاہی و بیورو کریسی پر وقتاً فوقتاً تنقید کرتے نظر آتے ہیں کہ بڑی گاڑیوں اور ٹھنڈے کمروں کی زینت بنے آفیسرز کو عوام کے درمیان جانا کم ہی نصیب ہوتا ہے اور وہ سرکاری نمبرز سے دو چار ٹیلی فونز گھما کر سرکاری وسائل کو چونا لگا رہے ہوتے ہیں اور دوسری اہم بات کہ میں نے ذاتی طور پر کبھی کسی کے حق میں تعریف یا تنقید نہیں کی نا کبھی کسی کی پگڑی اچھالی نا کسی کو مسیحا بنا کر پیش کیا ہے مگر مسلسل چند ماہ کی سرگرمیوں کو دیکھ کر بالخصوص رمضان المبارک کے دنوں میں روزے کے ساتھ عام انسان بھی افطاری کے بعد نڈھال ہو جاتا ہے مگر ایسے میں ایک ایسا شاندار انسان بہترین عوام دوست پولیس آفیسر کیا کرتا نظر آتا ہے اس پر قلم سے گزارش کی ہے کہ میرٹ پر لکھنا شروع کرے۔
    میں بات کر رہا ہوں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی جنہوں نے آج مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں ان کی فرض شناسی پر بات کروں یہ باکمال آفیسر ایک طرف علی الصبح لاہور شہر کے ناکوں پر سیکورٹی کے معاملات دیکھ رہے یا مختلف تھانوں میں سرپرائز وزٹ کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ سحری کے وقت ہر خاص و عام اپنی فیملی کے ساتھ سحری میں مصروف ہوتا ہے بلکہ افسر شاہی تو صبح دفتر ہی دیر سے تشریف لاتے ہیں کہ صاحب روزہ رکھنے کے بعد نیند سے بیدار ہونے کے بعد تو تیار ہوتے ہیں مگر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے معمولات کو دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ صبح سویرے اندھیر منہ سڑکوں پر نظر آتے ہیں بعد ازاں اپنے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کر کے سائلین کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔
    اب تک رمضان المبارک کے تقریباً تمام تر افطاریاں انہوں نے شہر لاہور کے چوراہوں میں جوانوں کے درمیان کی ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ لنچ باکسز میں سادہ غذا تمام پولیس کے جوانوں کے لیے محکمہ کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے جناب فیصل کامران بھی اسی کو تناول فرما رہے ہوتے ہیں جبکہ خالص افسر شاہی اس وقت اپنے بچوں کے ہمراہ لذیز کھانوں کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں خیر بات یہیں نہیں رکتی اسی اثنا میں نماز تروایح کا وقت ہو جاتا ہے فیصل کامران مختلف مساجد کے سیکورٹی معاملات کو چیک کرنے تشریف لے جاتے ہیں اور رات گئے تک لاہور کے داخلی و خارجی راستوں سمیت لاہور کی شاہراہوں پر گاڑی بھگاتے پھر رہے ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان کا سٹاف بھی ان کی اس سخت روٹین سے تنگ ہو گا کیونکہ اس سے قبل کوئی اس طرح کا ڈی آئی جی آپریشنز اس طرح سے مستعد، ایماندار اور فرض شناس نظر ہی نہیں آیا۔
    لاہور میں جرائم کی شرح میں واضح کمی نظر آ رہی ہے اور ڈی آئی جی فیصل کامران جیسے شاندار کارکردگی والے آفیسر کو مستقبل میں جب پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملے گا تو امید واثق ہے کہ پنجاب میں بھی وہ جرائم بھی اسی طری قابو پائیں گے اور حالیہ عوام و پولیس دوست رویے کی بدولت وہ نا صرف محکمہ پولیس بلکہ عوام میں بھی اپنا خاص مقام پیدا کر لیں گے۔

    87 مناظر