
ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے، 220 امریکی فوجی ہلاک، کئی قیدی بنانے کا دعویٰ
مشرق وسطیٰ میں جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شدت آ گئی ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، ایران نے 220 امریکی فوجی مارنے اور کئی قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے جسے امریکی سنٹرل کمانڈ نے رد کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچر اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے اس امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی پر بم برسائے گئے، اسرائیل نے ایران کے 80 لڑاکا طیارے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس، ایک ہزار 41 کمرشل یونٹس، 14 میڈیکل سینٹرز، 65 سکولوں اور ہلال احمر کے 13 مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنایا گیا ہے، امریکی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکی فوجی کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں، امریکی حکام حقیقت کو چھپانے کی بیکار کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا ایرانی بیان مسترد کر دیا اور کہا کہ ایرانی رجیم کا امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا بیان جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا خواب جلد ہی ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو جائے گا، ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہے، ایران کسی کو اپنی زمین کے ایک انچ پر بھی قبضہ نہیں کرنے دے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو مجبوراً جواب دینا پڑے گا، ہمسایہ ممالک پر جوابی کارروائیوں کا مطلب دشمنی نہیں بلکہ دفاعی ردعمل ہوگا،امریکا اور اسرائیل خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایران اپنے برادر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہر قسم کے حملے کا بھرپور جواب دے گا، ملک کے تمام سیاسی دھڑے اور عوام دشمن کے خلاف متحد ہیں، ایران کسی بھی دباؤ یا حملے کے سامنے جھکنے والا نہیں، ایران کی خودمختاری اور سرزمین کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی افزودہ یورینیم کے حصول کے لیے سپیشل فورسز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، آپریشن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام یا 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، منصوبے کے تحت امریکی یا اسرائیلی کمانڈوز کو ایران میں زیر زمین محفوظ تنصیبات تک بھیجا جائے گا۔
امریکا ایرانی یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرے گا یا غیر مؤثر بنا دے گا، آپریشن میں انٹرنیشنل جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے سے اسرائیل بھر میں سائرن گونج اٹھے، اسرائیلی فوج کے مطابق دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہاہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ شہریوں کو شیلٹرز اور دیگر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا، حکومتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
91 مناظر