
شہید محترمہ بینظیر بھٹو: جمہوریت کی علامت
تحریر: جاوید کمیانہ
محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک نمایاں اور ناقابلِ فراموش شخصیت تھیں۔ وہ نہ صرف پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں بلکہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت ہونے کا اعزاز بھی رکھتی تھیں۔ ان کی سیاسی زندگی جدوجہد، قربانی اور عوامی خدمت سے عبارت تھی۔
بینظیر بھٹو نے اپنے والد سابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد آمرانہ ادوار میں جمہوریت کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد کی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو نئے سرے سے متحد اور نظریہ بھٹو کو ذندہ رکھا وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور پارلیمانی نظام کے استحکام کی داعی رہیں۔ ان کے ادوارِ حکومت میں خواتین کے حقوق، صحت، تعلیم اور سماجی فلاح اور دفاعی شعبوں میں اہم اقدامات کیے گئے۔
سیاسی مخالفت، جلاوطنی اور شدید دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے نظریات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور اپنے کارکنان کے شانہ بشانہ آہنی چٹان کی طرح کھڑی رہیں اور اپنے مضبوط ارادوں کو متزلزل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے دو مدتی طویل آمریت کے ادوار میں مصائب کا سامنا کیا مگر اپنی والدہ محترمہ نصرت بھٹو کی سرپرستی میں نا صرف کارکنان کو متحرک رکھا بلکہ جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنے شب و روز وقف کیے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اپنی سیاسی میراث کو زندہ رکھا اور اپنے جمہوری سفر میں اپنی صلاحیتوں سے عالمی توجہ و شہرت حاصل کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد انہوں نے ثابت کیا کہ وہ جہاں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی بہترین بیٹی، آصف علی زرداری کے لیے ایک بہترین بیوی اور بلاول بھٹو زرداری ، بختاور بھٹو و آصفہ بھٹو کے لیے قابل رشک ماں بھی تھیں۔
2007ء میں جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی ان کے جمہوری عزم کا واضح ثبوت تھی۔ تاہم 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے کے بعد وہ ایک قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئیں، جس سے پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔
بینظیر بھٹو کی شہادت نے پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد کو ایک نئی سمت دی۔ آج بھی وہ جمہوریت، حوصلے اور خواتین کی قیادت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی سیاسی خدمات اور قربانیاں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ روشن رہیں گی