• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • ٹریفک قوانین، چالان اور بنیادی سوالات

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    پنجاب کے ایک شہراوکاڑہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف رواں ہفتے کی کارروائیوں کی رپورٹ نے بظاہر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد راشد ہدایت کی سرکردگی میں ٹریفک پولیس مکمل چوکنا ہے اور بلا تفریق قانون کا اطلاق کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران 10 ہزار 38 چالان کیے گئے، جن میں بغیر ہیلمٹ، بغیر لائسنس، بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ اور دیگر قسم کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ اسی عرصے میں ایک کروڑ 36 لاکھ 39 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، 895 ایف آئی آرز درج ہوئیں اور 512 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔یہ اعداد و شمار قانون کی سختی کا واضح ثبوت ہیں۔
    ڈی پی او اوکاڑہ کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہ بات سو فیصد درست ہے۔ ہیلمٹ کا استعمال، کم عمر ڈرائیونگ کی روک تھام، بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر سختی اور روڈ سیفٹی کے دیگر اصول شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ مگر کیا صرف سختی، جرمانوں اور ایف آئی آرز سے مسئلہ مکمل حل ہو سکتا ہے؟ کیا ہر خلاف ورزی محض شہری کی غلطی ہے یا کچھ ذمہ داری ریاست اور ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے؟
    یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر اس ہفتے کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ سنجیدہ بحث ضروری ہے۔
    ٹریفک قوانین کی بنیادی اہمیت کی حامل ہےاس کوئی دو رائے نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹریفک قوانین پر عمل انسان کی اپنی جان کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ اوکاڑہ سمیت پنجاب بھر میں موٹرسائیکل سواروں کی بڑی تعداد ہیلمٹ کا استعمال نہیں کرتی جبکہ کم عمر بچے بھی بڑی آسانی سے سڑکوں پر موٹرسائیکل دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں پولیس کی سخت کارروائی یقینا قابلِ ستائش ہے۔ مگر قانون کا نفاذ ہمیشہ دو پہلو رکھتا ہے ایک سزا اور دوسرا سہولت ہے جب تک دونوں پہلو توازن میں نہ ہوں، نفاذ محض خوف کے ذریعے تو ہو سکتا ہے، پائیدار تبدیلی کے ذریعے نہیں
    بنیادی سوال ہے کیا جرمانے ہی قانون کے احترام کا واحد ذریعہ ہیں۔۔۔؟
    ایک ہفتے میں 10 ہزار سے زائد چالان یہ ایک بہت بڑا عدد ہے۔ مگر سوال یہ کہ آیا جرمانہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے شہری قانون پر عمل کرنا سیکھیں گے؟
    دنیا بھر میں ٹریفک اصلاحات صرف جرمانوں سے نہیں آئیں، بلکہ تعلیم، سہولیات، آگاہی اور شہری اتھارٹی کے اشتراک سے ممکن ہوئیں۔ پاکستان میں ہر معاملے میں فوراً “چالان کا حل” نکال لیا جاتا ہے، مگر رویوں کی تبدیلی کے لیے مستقل اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اس سوال کا جواب ضروری ہے جہاں سہولت نہیں، وہاں سختی کیا انصاف ہے؟
    اوکاڑہ میں آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے۔ شہریوں کے پاس یا تو موٹر سائیکل ہے یا پیدل چلنے کا آپشن موجود ہے ایسے میں کیا صرف سختی اور جرمانے درست حکمتِ عملی ہے؟
    کیا ریاست کا یہ فرض نہیں کہ وہ پہلے شہریوں کے لیے آسان، محفوظ اور کم لاگت ٹرانسپورٹ مہیا کرے، پھر سختی کرے؟
    قانون کا احترام سہولت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔جس شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں بس اسٹاپ نہیں، شیڈ نہیں، واک چینل نہیں، ٹریفک سائنز نہیں، اس شہر میں صرف چالان کرنا عملی طور پر غیر دانشمندانہ فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔
    غربت اور بے روزگاری کے دور میں سختی کیا یہ ظلم نہیں؟
    پنجاب کے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے ایک ہزار سے پانچ ہزار روپے کا چالان معمولی بات نہیں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب مہنگائی بے قابو ہو، روزگار کم ہو اور ہر گھر مالی دباؤ کا شکار ہو۔
    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ زیادہ تر موٹرسائیکل سوار طبقہ معاشی دباؤ میں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون نافذ کرتے وقت معاشرتی حقیقت بھی دیکھنا ضروری نہیں؟
    سختی لازمی ہے، مگر انصاف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب سختی کے ساتھ سہولت بھی دی جائے۔
    طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کیا یہ درست قدم تھا۔۔۔؟طلبہ اگر سوشل میڈیا کی دینا میں ٹرینڈ چلنے کی بجائے اپنی آواز بلند کرتے تو حکومتی طرز عمل مختلف ہوتا۔طلبہ کو اپنے سیاسی ایجنڈا کے بھنت چڑھادیا گیا جسکی وجہ سے طلبہ کی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ میڈیا پرسن ڈی پی او کے سامنے انکی اعلی کارکردگی کی تعریف کرتے ہیں جبکہ عام آدمی کے سامنے ان اقدامات کو ظلم قرار دیتےہیں۔انتظامیہ کی خوشنودی واحد مقصد نظر آتا ہے۔ اعداد و شمار تو شائع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں مصروف ہیں کسی نے صحافتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عام آدمی سے نہیں پوچھا کہ وہ کیا سوچتا ہے۔
    رپورٹ میں شامل 895 ایف آئی آرز میں کچھ تعداد طلبہ کی بھی ہے، جن کے خلاف کم عمر ڈرائیونگ، بغیر لائسنس ڈرائیونگ یا ٹریفک خلاف ورزی پر مقدمات درج کیے گئے۔ سوال یہ کہ کیا طلبہ کو براہِ راست کریمنل ریکارڈ میں دھکیل دینا دانشمندی تھی؟
    دنیا میں کم عمر ڈرائیورز کے لیے جرمانے کے بجائے اصلاحی پروگرام اور کونسلنگ سیشنز کیے جاتے ہیں تاکہ مستقبل بچایا جا سکے۔
    ایک کم عمر بچہ جس نے لائسنس کے بغیر بائیک چلائی، یقیناً غلط کیامگر کیا اس کا حل ایف آئی آر ہے؟
    کیا ایک طالب علم کی پوری زندگی پر جرم کی مہر لگانا درست ہے؟
    یہ وہ سوال ہے جس پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر پالیسی نظرثانی کرنی ہوگی۔
    ڈی پی او اوکاڑہ محمد راشد ہدایت کا کہنا ہے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں، چاہے پولیس اہلکار ہو یا سرکاری ملازم ہو
    یہ اصولی بات ہے اور قابلِ تعریف بھی ہے۔
    مگر اسی اصول کا ایک اور تقاضا بھی ہے ریاست بھی شہریوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔
    اگر سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، ٹریفک سائنز غائب ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ ناکافی ہے تو کیا یہ بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں؟
    جو جرمانہ شہری پر عائد ہوتا ہے وہ ریاست پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
    اوکاڑہ کی ایک ہفتے کی ٹریفک رپورٹ ایک آئینہ ہےسوال یہ کہ ہم اس آئینے میں کیا دیکھتے ہیں،کامیابی یا کمزوریاں۔۔۔۔؟
    قانون کی حکمرانی یا سہولیات کی کمی؟
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی پر بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔
    کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف والدین کو شاملِ حکمت عملی کیا جائے۔
    طلبہ پر ایف آئی آر کے بجائے اصلاحی پروگرام بنائے جائیں۔شہریوں کے لیے بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور ٹریفک سائنز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ٹریفک پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت اور روڈ سیفٹی ایجوکیشن شامل کی جائے۔
    قانون کی پاسداری ہر شہری کا فرض ہے مگر قانون بنانے والے اور نافذ کرنے والے بھی شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
    اوکاڑہ کی اس ہفتہ وار رپورٹ نے جہاں پولیس کی محنت ثابت کی ہے، وہیں ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے کہ کیا سختی ہی واحد راستہ ہے؟ یا ایک ایسا نظام بہتر ہے جس میں سہولت، آگاہی، شراکت داری اور انسانی احترام کو مقدم رکھا جائے؟
    شہری جب ریاست کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھتے ہیں تو قانون خود بخود ان کی ترجیحات میں شامل ہو جاتا ہے۔
    اور یہی وہ راستہ ہے جو اوکاڑہ سمیت پورے پنجاب کے لیے پائیدار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

    113 مناظر