• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • پاکستان پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ جماعتیں وجود میں آتی ہیں، پنپتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ مگر پاکستان پیپلز پارٹی کا سفر اس روایتی تاریخ سے یکسر مختلف ہے۔ یہ جماعت عوام کی امیدوں، محروم طبقات کی آواز، جمہوری جدوجہد کی علامت اور ریاستی جبر کے سامنے ڈٹ جانے کا استعارہ بن کر آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ 30 نومبر 1967 کو لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قائم ہونے والی یہ جماعت 2025 میں اپنا 58 واں یومِ تاسیس منا رہی ہے۔ تقریباً چھ دہائیاں گزر چکی ہیں مگر اس جماعت کے نظریات، اس کا عوامی رنگ اور اس کی سیاسی جڑیں آج بھی اسی طرح گہری ہیں جیسے اپنے قیام کے دن تھیں۔
    قیامِ پیپلز پارٹی کا حقیقی مقصد عوام کو اقتدار کا سرچشمہ تسلیم کرانا تھا۔ بھٹو نے پاکستان کی سیاست کو اشرافیہ کی موروثی اجارہ داری سے نکال کر عوام کے ہاتھ میں دینے کا جو تصور پیش کیا وہ اس ملک میں پہلی بار کسی سیاسی قیادت نے اس وضاحت سے پیش کیا تھا۔ پارٹی کے قیام میں شریک شخصیات جیسے جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ اور دوسرے بانی اراکین نے ترقی پسندی، سماجی مساوات اور معاشی انصاف کو پارٹی کے نظریاتی ستون بنایا۔ ”اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست اور طاقت کا سرچشمہ عوام“یہ نعرہ کسی سادہ منشور کا حصہ نہیں تھا بلکہ اس خطے کے سیاسی ڈھانچے کے خلاف ایک انقلابی چیلنج تھا۔
    1970 کے انتخابات نے پیپلز پارٹی کو مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا۔ بھٹو کے دورِ حکومت نے پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین، ایٹمی پروگرام کی بنیاد، اسلامک بلاک کی خارجہ پالیسی اور سماجی سطح پر بے شمار اصلاحات دیں۔ مزدور، کسان، طالب علم، خواتین سب پہلی مرتبہ ریاستی سطح پر کسی جماعت کے حقیقی مرکز بنے۔ لیکن بھٹو کا یہ عوامی عروج اسٹیبلشمنٹ کو برداشت نہ ہوا اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے نہ صرف ایک منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹ دیا بلکہ عوام کی منتخب قیادت کو پھانسی دے کر پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اس المیے سے دوچار کر دیا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
    بھٹو کی پھانسی کے بعد اگر کوئی نوجوان عورت جمہوریت کی علامت بن کر ابھری تو وہ بے نظیر بھٹو تھیں۔ ان کی جلاوطنی، قید و بند، کوٹھڑیوں کی تاریکیاں، ضیائی آمریت کی سختیاں اور کارکنوں پر برسنے والے کوڑے اس جدوجہد کو مزید مضبوط کرتے گئے۔ 1986 میں لاہور واپسی پر ان کا استقبال تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی ریلیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ضیاء الحق کی آمرانہ حکمرانی کے خاتمے کے بعد جب 1988 میں بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں تو یہ نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد سیاسی واقعہ تھا کہ ایک اسلامی ملک میں پہلی خاتون وزیراعظم اقتدار میں آئی ہیں۔
    مگر اقتدار کا یہ دور بھی سازشوں سے پاک نہ رہا۔ آئی جے آئی کی تخلیق، اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی انجینیئرنگ میں کرداراور حکومت کو غیر مستحکم رکھنے کے مسلسل حربے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو کبھی آزادانہ ماحول میں حکومت نہیں کرنے دی گئی۔ 1993 میں وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں لیکن 1996 میں صدر فاروق لغاری نے جس طرح ان کی حکومت برطرف کی وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے آج بھی گہری خفگی اور بے اعتمادی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
    اس کے بعد ظلم و انتقام کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ مقدمات، جھوٹے الزامات، گرفتاریوں کے اندیشے اور پھر پرویز مشرف کا مارشل لایہ وہ دور تھا جس میں پیپلز پارٹی کی قیادت ایک بار پھر جلاوطنی پر مجبور ہوئی۔ لندن اور دبئی میں بے نظیر بھٹو نے جس سیاسی حکمت عملی کے ساتھ میثاقِ جمہوریت ترتیب دیا وہ نہ صرف اُن کی سیاسی بلوغت کا ثبوت تھا بلکہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی بنیاد بھی بنا۔2007 میں وہ وطن واپس آئیں تو ایک بار پھر عوام کا سمندر ان کے استقبال کے لیے نکلا۔ مگر کارساز کا سانحہ اس خوشی کو لہو میں تبدیل کر گیا۔ اس کے باوجود بے نظیر بھٹو پیچھے نہ ہٹیں۔ وہ جانتی تھیں کہ جمہوریت کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ 27 دسمبر 2007 کا دن پاکستان کے لیے قیامت کا منظر لے کر آیا۔ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ سیاست اپنی عظیم ترین بیٹی کھو بیٹھی۔
    2008 میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر حکومت میں آئی اور آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے۔ ان کے دور میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مکمل آئینی خود مختاری ملی۔ آرٹیکل 58(2)(b) کا خاتمہ، اٹھارویں ترمیم، NFC ایوارڈ، جمہوری انتقال اقتدار یہ وہ سنگ میل تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک بار پھر آئینی راستے پر گامزن کیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا خارجہ پالیسی کے حساس معاملات پی پی پی نے مشکل وقت میں ریاست کی سمت درست رکھنے کا کردار ادا کیا۔
    آج سندھ میں پیپلز پارٹی مسلسل برسراقتدار ہے۔ بلوچستان میں حکومت سازی کا حصہ ہے۔، صدرِ پاکستان، چیئرمین سینیٹ اور دو صوبوں کے گورنریہ سب وہ مناصب ہیں جن پر اس جماعت نے اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کیں۔ آصف علی زرداری کی طویل قید اور استقامت نے پارٹی کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ انہی تجربات کا تسلسل بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں سامنے آیا ہے جو آج پاکستان کی نوجوان نسل کی امید بھی ہیں اور مستقبل کے وزیراعظم کے مضبوط امیدوار بھی ہے۔
    پیپلز پارٹی کی 58 سالہ تاریخ قربانیوں کی داستان ہے وہ قربانیاں جن میں لیڈروں کے لہو سے لے کر کارکنوں کی جانفشانی تک سب شامل ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جس کے لیڈر بھی مارے گئے، کارکن بھی کوڑے کھاتے رہے، گھروں کے چراغ بھی بجھے،مگر نظریہ ماند نہ پڑا۔ اس جماعت نے پاکستان کو آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، صوبائی خودمختاری فراہم کی، خواتین کو بااختیار بنانے کے درجنوں اقدامات کیے، خارجہ پالیسی کو نئی جہت دی، اور عوام کو ریاستی عمل کا حصہ بنایا۔
    30 نومبر 2025 کا یومِ تاسیس دراصل اس لازوال جدوجہد کی یاد دہانی ہے۔ پیپلز پارٹی آج بھی ایک نظریہ ہے، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے۔ یہ جماعت شکست کھا سکتی تھی، بکھر سکتی تھی، ختم ہو سکتی تھی مگر نہ بھٹو ختم ہوا، نہ بینظیر بھٹو کی آواز دبائی جا سکی اور نہ پیپلز پارٹی کا چراغ بجھ سکا۔ عوام، قربانیاں، استقامت اور جمہوریت پر غیر متزلزل یقین یہی اس جماعت کی اصل طاقت ہے ۔

    208 مناظر