• استاد محترم رضوان رضی دادا

    استاد محترم رضوان رضی دادا
    تحریر۔ جاوید کمیانہ
    میرے والد گرامی محکمہ تعلیم میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور ایک استاد کا بیٹا ہونے کے ناطے مجھے اساتذہ کرام کے احترام کا بخوبی اندازہ ہے۔ ملک کے نامور سینیئر صحافی ، تجزیہ نگار و اینکر رضوان رضی دادا صاحب سے بالواسط میں نے اگرچہ تعلیم حاصل نہیں کی مگر ان کی صحافتی زندگی سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے جس کی بنیاد پر میں ان کو روحانی استاد مانتا ہوں اور ان کے تعظیم و تکریم میرے پر لازم ہے۔ استاد محترم رضوان رضی دادا صاحب فصاحت و بلاغت ، ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کا تجزیہ بخوب کرتے ہیں وہاں ان کو معیشت پر بھی گہری دسترس حاصل ہے۔ہمیشہ سچائی اور میرٹ پر بات کرنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کو نہ صرف بے روزگار کر دیا گیا بلکہ جھوٹے مقدمات درج کر کے پابند سلاسل رکھا گیا اور حیرت انگیز طور پر وہ مقدمات آج بھی قائم ہیں جس پر اگر وہ انصاف کے معیار پر گلہ کرتے بھی ہیں تو وہ حق بجانب ہیں کیونکہ عدلیہ کے کچھ روبوٹ جب انصاف کی فراہمی چاہ رہے ہوں تو بیک وقت پچاس سے زائد مقدمات میں ضمانت منظور کر لیتے ہیں اور ان کو کسی دوسرے صوبے سے انصاف حاصل کرنے کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔ چند روز قبل استاد محترم رضوان رضی دادا صاحب اور سینیئر صحافی سعید چوہدری صاحب کو ایک ایک نہیں دو دو ایف آئی اے کے نوٹسز موصول ہوئے اور چند دیگر صحافی رفقاء کے ساتھ وہ ایف آئی اے لاہور کے دفتر پیش ہوئے وجہ ایک جج کے خاندان سمیت امریکی شہریت پر چند ٹویٹس تھیں دوسری جانب پاکستان کی عدلیہ کا سب سے بڑا عہدہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوتا ہے اور قاضی فائز عیسیٰ متعدد بار اعتراف کر چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ان کو جتنی گالیاں پڑتی ہیں کسی کو نہیں پڑتیں اور وہ کون لوگ ہیں سب کو معلوم ہے مگر اس سیاسی جماعت کے یوٹیوبرز نما صحافیوں جو ملکی دفاعی ادارے کے سربراہ اور اعلی عدلیہ کے چیف کی صبح و شام ٹرولنگ کرتے ہیں کبھی ایف آئی اے نے طلب کیا ؟ کسی کو نوٹس موصول ہوا ؟ کسی کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی ؟ سوچنے کی بات ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو تب بھی استاد محترم رضوان رضی کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے اور پھر مسلم لیگ ن کی حکومت ہو تو وہی عمل دہرایا جاتا ہے بس یہ رعائت حاصل ہوئی ہے کہ فی الحال مقدمہ درج کر کے سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالا گیا۔ موجودہ حکومت کو ایک نقطہ پر سوچنا چاہیے کہ عوام جارحانہ انداز پسند کرتی ہے ناکہ دفاعی یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ سے پی ٹی آئی والوں کی جان جاتی ہے کیونکہ جارحانہ لڑائی لڑنے کا فن ان کے اندر بہرحال موجود ہے مگر وزیر اعظم چاچو شہباز اور بڑے میاں صاحب معلوم نہیں کسی حکمت کی وجہ سے منہ میں چوسنی ڈال کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں وہ ہلچل مچا کر رکھتی ہے جس کی وجہ سے ان سوشل میڈیا پر پیڈ اور نان پیڈ ٹیمیں ہمہ وقت متحرک رہتی اور کارکنان کو ساتھ ملا کر رکھتی ہیں۔ میرے اسی اعتراض ہر استاد محترم نے ایک ولاگ میں بھی یہی فرمایا ہوا ہے جس میں انہوں نے راہول گاندھی کا حوالہ دیا کہ اس نے پیدل یاترا کر کے عوام میں گھس کر سو فیصد زیادہ نشستیں حاصل کر لیں اور میاں صاحب نے منہ میں گھگنیاں ڈال کر پچاس فیصد نشستیں کم کر لیں، خیر میرا موضوع صرف استاد محترم رضوان رضی دادا صاحب ہی ہیں اس وقت مختلف میڈیا ہاؤسز میں ان کے بیشتر شاگرد بھی صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ کا تعلق بھی شعبہ صحافت سے ہے اس کے باوجود ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس لینے کا جواز نہیں تھا۔ ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے استاد محترم رضوان رضی دادا صاحب اور سعید چوہدری صاحب کے لیے آواز بلند کی اور اظہار یک جہتی کیا جس پر سب کے شکر گزار ہیں۔ آخر میں اتنا کہوں گا کہ یہ چند صحافیوں کی جماعت جو حقیقی معنوں میں عرصہ دراز سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور استاد محترم کے علاؤہ سید عمران شفقت، گوہر بٹ، عبدالقیوم صدیقی، ممتاز بھٹی اور امداد سومرو جیسے سینیئر لوگوں نے ہمیشہ سچائی،حق و صداقت کی آواز بلند کی ہے اور کرتے رہیں گے اور یہ کاغز کے ٹکڑے اور لوہے کی سلاخیں ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکیں گی۔۔..

    321 مناظر