• میں جھوٹ کے سورج سے نہیں لایا ہوں کرنیں

    میں جھوٹ کے سورج سے نہیں لایا ہوں کرنیں

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    دورِ حاضر کی ضرورت کے مطابق عوام تک درست اور بروقت اطلاعات کی رسائی کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں کے تحت محکمہ تعلقات عامہ قائم ہے۔ اضلاع کی سطح پر محکمہ تعلقات عامہ کے آفس موجود ہیں جہاں تعلقات عامہ کے آفیسر و ملازمین ہمہ وقت فرائض ادا کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس محکمہ کا بنیادی کام حکومت کے عوامی فلاح کے منصوبوں، حکومت کی پالیسی اور اقدامات کو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانا ہے تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کی زندگی کو بہتر کرنے اور سہولیات کی فراہمی کے لیے کیا کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس محکمہ کا شمار صوبائی حکومت کے ضروری محکموں میں ہوتا ہے جس کے ملازمین چوبیس گھنٹے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں محکمہ تعلقات عامہ صوبائی حکومت کا آئینہ ہوتا ہے جس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی نظر آتی ہے۔ یہ محکمہ حکومت اور عوام کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ کے ضلعی دفاتر جتنے فعال ہوتے ہیں اتنی ہی جلدی میڈیا پرسنز کو سرکاری موقف سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کو سروسز فراہم کرتا ہے۔ نامساعد حالات میں بھی صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ دور دارز علاقوں میں محکمہ تعلقات عامہ کے آفیسر اور ملازمین خدمات انجام دیتے ہیں۔
    قارئین کرام! نگہنان رمضان پیکج، ستھرا پنجاب مہم، یوم کشمیر، یوم پاکستان، پنجاب کا ثقافتی دن سمیت تمام مہمات میں محکمہ تعلقات عامہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیو مہم، انسداد ڈینگی اور کورونا مہم، کورونا ویکسینیشن سمیت کئی اہم مہمات کی آگاہی کے حوالہ سے محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے افسران نے بھرپور انداز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا عوام اور حکومت کے درمیان مستحکم اور ثمر آور رابطہ قائم رکھا۔ اس محکمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے لیے رائے قائم کرنے میں مدد فراہم کرنا اور ان تک درست اطلاعات پہنچانے کی اہم ذمہ داری نبھائی۔ ہر دور میں محکمے نے اپنی استطاعات سے بڑھ کر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ دورِ حاضر میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال سے عوامی آگاہی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اسکے ساتھ پراپیگنڈا بھی زوروں پر ہے۔ جھوٹ و سچ، لمحوں میں معاشرہ کو متاثر کر دیتے ہیں۔ ایسے میں محکمہ تعلقات عامہ کا کردار اہم ہو چکا ہے۔ محکمے کے پاس وسائل محدود اور مسائل بے شمار ہیں مگر افسران اور دیگر عملے کا عزم ناقابلِ تسخیر بنیادوں پر قائم ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ عوام تک درست اطلاعات کی بروقت رسائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتا ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ کے ضلع اوکاڑہ کے آفس سے راقم الحروف کا 1993سے تعلق ہے اُس وقت بطور ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر ارشد کاکٹر یہاں تعینات تھے۔ پرنٹ میڈیا کے اُس دور سے آج تک محکمہ اطلاعات کے مقامی آفس سے رابطہ اور پیشہ وارانہ تعلق قائم ہے۔ نامور شاعر عابد کمالوی، خورشید جیلانی حالیہ تعینات (ڈاٸریکٹر فیصل آباد) اس آفس میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ یادوں کی لمبی داستان دل و دماغ میں محفوظ ہے۔ پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں آج ضلع اوکاڑہ میں تعینات سیّد سلمان حیسن شاہ سے بھی عزت و احترام کا تعلق ہے۔ سیّد سلمان حسین شاہ ہمارے ہم نام اور ایک جاذبِ نظر شخصیت ہیں۔فرائض کی ادائیگی کے حوالہ سے بہترین آفیسر ہیں۔ بہترین اندازِ گفتگو اور اعلی اخلاق سے خود کو محفل میں مانند شمع بنانے کا فن خوب جانتے ہیں۔مکالمہ کے ذریعے نہ صرف اپنا موقف بیان کرتے ہیں بلکہ باآسانی ہم خیال بنانے کی صلاحیت بھی بدرجہ اُتم ان میں موجود ہے۔ سرکاری فرائض کو ایک مخصوص دائرہ میں رہ کر انجام نہیں دیتے بلکہ احترامِ آدمیت کے فلسفہ پر ایسے عمل پیرا ہیں کہ ہمشیہ یاد رکھے جائیں گے۔ ایک سرکاری آفیسر کی یہی خوبی اسے دیگر سے ممتاز کرتی ہے جب وہ سیٹ پر نہیں ہوتے اپنے کردار اور عمل سے ہمشیہ یاد کیے جاتے ہیں۔روبینہ افضل ڈاٸریکٹر جنرل پبلک ریلشن حکومت پنجاب، عقیل اشفاق ڈاٸریکٹر ساہیوال ڈویژن اور سیّد سلمان حسین شاہ ڈپٹی ڈاٸریکٹر ضلع اوکاڑہ محکمہ اطلاعات کے ایسے افسران ہیں جو محکمہ کے لیے قابلِ فخر ہونے کے ساتھ اپنے سے منسلک احباب کے لیے شجر سایہ دار ہیں۔ عقیل اشفاق ڈاٸریکٹر ساہیوال ڈویژن راقم الحروف کی چوتھی کتاب (ہم ایک نہیں دو ہیں) کی تقریبِ رونمائی پر ای لابیرئری اوکاڑہ نہ صرف تشریف لائے بلکہ انہوں نے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ایک قلمکار کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں ہو سکتا کہ ایک صاحبِ علم اسکے ساتھ کھڑا ہو، عقیل اشفاق کی سروس وضع داری، انسان دوستی اور پروفیشنل ازم سے عبارت ہے قلم ہاتھ کی زبان اور تحریر خاموش آواز ہے۔ اس آواز کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت صرف اہلِ علم ہی رکھتے ہیں۔ عقیل اشفاق علم دوستی میں اپنی متال آپ ہیں۔ ساہیوال ڈویژن کے صحافیوں اور قلم کاروں کی خوش نصیبی ہے کہ عقیل اشفاق جیسے آفیسر یہاں تعینات ہیں ضلع سے لیکر ڈویژن تک بہترین آفیسرز کی تعیناتی اس بات کا ثبوت ہے کہ
    روبینہ افضل ڈاٸریکٹر جنرل پبلک ریلشن حکومت پنجاب صرف پروفیشل ازم کی قائل ہیں۔ روبینہ افضل ڈاٸریکٹر جنرل پبلک ریلشن انتہائی فرض شناس آفیسر ہیں حکومت پنجاب کے لیے ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ان کا کام دیکھ کر ہر بندہ تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔بہت دل جمعی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے پنجاب حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کرتی آرہی ہیں۔ اگر راقم الحروف ان کے کام کی تعریف نہ کرے تو شائد یہ بات بُخیلی میں آئے گی کیونکہ وہ اس وقت اپنے فرائض منصبی انتہائی احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں۔ ان کی طرف سے پنجاب حکومت کے لیے جس لگن، توجہ اور ریاضت کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس کی نظیر ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔ یہ تمام افراد یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کی کاوشوں سے محکمہ تعلقات عامہ کی کارکردگی میں نا صرف بہتری آئی بلکہ عوام اور حکام کے درمیان فاصلہ ختم ہوا۔ یہی محکمہ تعلقات عامہ کی ذمہ داری ہے اور یہی پروفیشنل ازم کا تقاضہ ہے۔ جب بہتر اور بہترین کی طرف قدم بڑھ رہے تو تعریف کرنا بھی لازم ہے۔ ہم تشہر برائے ترغیب کے قائل ہیں اس لیے تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ بہ زبان شاعر :

    میں جھوٹ کے سورج سے نہیں لایا ہوں کرنیں

    یہ ان شخصیات کے کردار کی روشنی ہے جس کو قرطاس پر پھیلانا ضروری سمجھا تاکہ آنے والے آفیسرز اپنے پیش رو کو آٸیڈیلاز کرتے ہوۓ ان ہی کے نقشِ قدم کو مقدم جانتے ہوۓ یہ فریضہ بہ طریقہ احسن سرانجام دینے کو فخر سمجھیں۔

    238 مناظر