• انسانی حقوق کا عالمی دن اور عالمی سطح پر خلاف ورزیاں

    انسانی حقوق کا عالمی دن اور عالمی سطح پر خلاف ورزیاں

    تحریر۔ جاوید کمیانہ
    ہر سال دس دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے اور عالمی انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں شمع روشن اور سیاست دان پریس ریلیز جاری کر کے سال بھر کا فرق ادا کر دیتے ہیں مگر عملی طور پر انسانی حقوق کی سر عام خلاف ورزیوں پر زبانیں گنگ رکھتے ہیں یا مذمتی بیان جاری کر کے انسانیت کے ساتھ مزاق اڑاتے ہیں ۔
    اول تو بھارت نے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ پچھلی کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور سوائے پاکستان کے مسلم ممالک سمیت کسی کو توفیق نہ ہوتی تھی کہ بھارتی جارحیت پر موثر آواز اٹھاتے پھر فلسطین میں نہتے مسلمانوں بالخصوص خواتین ،بچوں اور مریضوں کو جیسے لقمہ اجل بنایا جا رہا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی مگر عالمی سطح پر مزمت اور جنگ بندی کے مطالبہ کے سوا کیا کیا گیا ؟ کہاں ہیں انسانیت کے علمبردار اور امریکی و اسرائیلی جنم کردہ ناجائز تنظیمیں جن کے نزدیک انسان کی قدر نہیں ہے اور وہ کسی ایک یہودی یا اسرائیلی کے جہنم واصل ہونے پر واویلا کر کے اسلام مخالف پراپیگنڈے اور مسلمان کو دہشت گر ثابت کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتی ہیں۔ بے گناہ انسانوں کا قتل عام جرم ہے اور اس کے لیے مزہب کی کوئی قید نہیں ہے، ایک لمحے کے لیے بے حس انسانی حقوق کی تنظیموں کی غیرت کو جگانے کے لیے سوال ہے کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں یہودی یا ان کے ایجنٹ مارے جا رہے ہوتے تو کیا امریکہ اور اس کا باپ اسرائیل یا اس کی ناجائز اولاد بھارت اور وہاں کے ذرائع ابلاغ خاموش رہتے یا یہ مغربی فنڈز سے چلنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں آسمان سر پر نہ اٹھاتی ؟ سارے ممالک اپنے بارود سمیت یک زبان ہو کر ایک صفحہ پر آتے چاہے کسی کو صفحہ ہستی سے ہی کیوں نہ مٹانا پر جاتا مگر یہاں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور کمزور اسلامی ممالک کی بے حسی عروج پر ورنہ نیٹو طرز کی مسلمان ممالک کی بھی مضبوط فوج ہوتی پھر کوئی باآسانی معصوم و کمسن بچوں پر اندھا دھند بارود برسانے کی جسارت بھی کرتا۔
    مگر افسوس صبح سے اس دن کی نسبت سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعلق مختلف مذمتی بیان شائع کر رہے ہیں اور پھر اگلے سال دس دسمبر کا انتظار کیا جائے گا نہ کسی کا ضمیر جاگے گا نہ کوئی مظلوم کشمیریوں و فلسطینوں کی موثر و عملی آواز بن کر سامنے آئے گا۔۔۔۔۔

    224 مناظر