• ہم وقت کو نہیں پکڑ سکتے

    تحریر : سلمان احمد قریشی

    ہم وقت کو نہیں پکڑ سکتے، یہ اپنے طریقے سے چلتا ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ آگے بڑھنا ہی زندگی ہے۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدلتا ہے۔ تبدیلی بہتری کے لیے ہو اور ترقی کی طرف لے جائے تو زندگی سہل محسوس ہوتی ہے۔ اس پر خوشی کا اظہار بنتا ہے۔ کامیاب انسان اس یقین کے ساتھ جیتا ہے کہ کچھ بھی دائمی نہیں۔ عہدے، ذمہ داریاں، آسانیاں، مشکلات اور خوشیاں سب عارضی ہیں لیکن کردار ہمشیہ زندہ رہتے ہیں۔ ہمیں ہر صورت وقت کے ساتھ ہی چلنا ہے۔اسی طرح سرکاری ملازمین کی
    ترقی اور تبادلہ جات سروس کا حصہ ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ فرائض سرانجام دینے سے مذید سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ قانون و قاعدے کی عملداری میں ہی سب کی عزت اور محکمہ کا وقار ہے جو افسران قانون و قاعدے پر سو فیصد عملدرآمد کرتے ہیں اور میرٹ پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے انھیں سروس میں بھی کوئی مشکلات نہیں آتیں اور شہر اور محکمہ کے لیے خدمت خلق کے جذبے سے کام کرنے پر ان کےجانے کے بعد شہر اور محکمہ کی بہتری کے لئے کیے گئے کاموں پر ان افسران کو لوگ اچھے لفظوں میں یاد بھی کرتے ہیں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں بہت سی شخصیات سے تعلق بنتا ہے۔ سکول کالج یونیورسٹی میں اساتذہ کرام سے قلبی تعلق پروان چڑھتا ہے۔وقت کے ساتھ آگے بڑھتے جاتے ہیں، تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات بطور معلم ہمیشہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہتی ہیں۔ بہترین شخصیت میں اساتذہ زندہ جاوید نظر آتے ہیں۔ پروفیشنل لائف میں ملازمت یا کاروبار میں بھی تعلقات بنتے ہیں اور ساتھ بھی میسر آتے ہیں لیکن یہ سب کچھ وقت کی رفتار کے مطابق ہی چلتا ہے۔ قارئین کرام! 1993ء کی بات ہے جب راقم الحروف شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے تو حادثات، جرائم کی خبروں کی تلاش کے بعد سرکاری تقریبات اور سرگرمیوں کے حوالہ سے خبر کا سب سے آسان ذریعہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس تھا۔ جہاں سے ہینڈ آوٹ مل جاتا۔ اس وقت ارشد کاکڑ اوکاڑہ میں تعینات تھے۔ ان کے بعد عابد کمالوی، سعید سہروردی، حماد چیمہ و دیگر افسران اس آفس میں تعینات اور ٹرانسفر ہوتے رہے۔ ہمارا ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس سے تعلق قائم رہا۔ہماری صحافتی زندگی میں سب سے طویل عرصہ خورشید جیلانی نے ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس میں سرکاری ذمہ داری نبھائی اور اب 2023 میں گریڈ 19 میں پرموٹ ہو کر بطور ڈائریکٹر فیصل آباد ٹرانسفر ہوئے۔ رپورٹنگ سے آگے 1999ء میں اوکاڑہ سے اخبار کا ڈیکلریشن حاصل کرنے سے تاحال باقاعدہ اشاعت کے سلسلہ میں انفارمیشن آفس سے تعلق قائم ہے۔ ہمارے کبھی بھی سرکاری افسران کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی والا معاملہ نہیں رہا کیونکہ ہم اپنے کام سے کام اور اصولوں پر قائم رہنا بہتر سمجھتے ہیں۔ افسران کی اپنی ترجیحات اور ضروریات ہوتی ہیں۔ اچھے کام کی ستائش تک معاملہ ٹھیک ہے اب اس سے آگے مدح سرائی اور ترجمانی کے فرائض بھی کچھ دوست ادا کرتے ہیں جس سے وہ صحافت کے پیشہ کی بے توقیری سے بھی باز نہیں آتے۔ لیکن افسران سے تعلقات کو صحافت کی معراج سمجھتے ہیں۔ ہم سرکاری افسران سے قربت کے تو قائل نہیں البتہ احترام اور باہمی عزت کے قائل ضرور ہیں۔ آج جب خورشید جیلانی کے جانے کا وقت آ پہنچا ہے ہمیں اس بات کے اعتراف میں کوئی جھجھک نہیں کہ ہم اداس ضرور ہیں۔ خورشید جیلانی کا ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ حد درجہ الفت و محبت سے بھرپور اور خلوص آمیز رویہ رہا، اور سب سے شفقت و مروت اور معاونت کا معاملہ رہا، ہم آپ کے ان احسانات اور پرخلوص تعلقات کے لئے ہمیشہ شکرگزار اور ممنون رہیں گے، اور بارگاہ ایزدی میں ہمہ وقت دعا گو رہیں گے کہ آپ جہاں رہیں کامیابی و کامرانی ہر موڑ پر آپ کے قدم چومے اور جہاں جائیں آپ کے علم و فکر، اخلاق و صفات اور روشن کردار کی خوشبو سے غبارِ راہ مشکبار اور عطر بیز ہو جائے۔ آج جب خورشید جیلانی اوکاڑہ سے ٹرانسفر ہوئے تو انکی ترقی کی خوشی کے ساتھ پریشانی بھی ہے، انجانا خوف ہے۔ ہم آپ کو آپ کی خوش مزاج طبیعت کی وجہ سے خاص طور پر یاد رکھیں گے۔ آپ کی خوش مزاج طبیعت پیشہ وارانہ خدمات کے دوران نئی توانائی پیدا کرتی رہی۔ ہم کام کے تئیں آپ کے مثبت رویہ کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ آپ کو رخصت کرنا اور آپ کی جگہ نئے آفیسر کے ساتھ کام کرنا ہم سب کے لیے کچھ مشکل ہو گا، تاہم ہم کیا کر سکتے ہیں، ہمیں آپکی ترقی کی خوشی ہے نئے آنے والے کے لیے بھی نیک تمنائیں ہیں۔ ہم سب آپ کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ جہاں تک راقم کی خورشید جیلانی سے تعلق کی بات ہے تو ہم اُنہیں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، حلیم الطبع، درویش منش، جہاندیدہ شخصیت کی حیثیت سے یاد رکھیں گے۔ اپنی حسِ مزاح سے لبریز ادبی گفتگو سے مخاطب کو گھائل کر دینے کے فن سے بھی آشنا تھے جبکہ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو دیکھیں تو دانشمندی اور فہم و فراست سے انتہائی سنجیدہ اور بامقصد گفتگو اُن کا محور و مرکز رہتی۔ ایگزیکٹو سے گفتگو کے دوران ہمیشہ اس اصول کو مدِ نظر رکھتے کہ زبان نرم اور دلیل گرم ہو اور اس لیے بامراد رہے۔ محفل کو کشتِ زعفران بنانے کی خوبی نے آپکو اپنے حلقہ ٕاحباب میں ہر دلعریز شخصیت بنائے رکھا، دانشورانہ گفتگو سے اپنے مخاطب کو گرویدہ کر لیتے ہیں۔ وسیع المطالعہ شخص وسیع القلب ہوتا ہے آپکی شخصیت اس مقولہ پر پوری اترتی ہے۔ سرکاری آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اُستاد کے کردار کی عکاسی کرتے ہوئے قول و فعل میں یکسانیت، انسانیت کی تربیت، قوت برداشت، خیر خواہی، تحمل مزاجی، قناعت پسندی اور استقامت جیسی خوبیوں سے مزین شخصیت کے حامل ہیں۔ موصوف ایک سرکاری آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کی دُنیا سے بھی تعلق جوڑے رکھنے میں کامیاب ہیں۔ ہمیں آپ کے مثبت مکالمے کا معیار بہت پسند ہے، جو ان لوگوں میں بھی مثبت اثر لاتا ہے جو صرف منفی سوچ رکھتے ہیں۔ آپ نے ہمیں مشکل حالات میں بھی ان کا سامنا کرنا سکھایا ہے۔ کئی سالوں سے آپ کی مخلص دوستی، مہربانی اور حمایت کے لیے آپ کے ممنون ہیں۔

    243 مناظر