• بیوروکریسی،عوامی مفاد اور ترجمان صحافی

    بیوروکریسی،عوامی مفاد اور ترجمان صحافی

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    پاکستان میں بیوروکریسی کا کردار ہمیشہ زیرِ بحث رہا، ریاستی امور احسن طریقے سے چلانے، موثر حکمت عملی وضع کرنے اور اس کے نفاذ میں بیوروکریسی کا کردار کلیدی ہے۔ عوام کے وسیع تر مفاد میں سول ملازم کی حثیت سے انتظامی امور چلانا بیورو کریسی کے فرائض میں شامل ہے۔ بیورو کریسی کتنی موثر ہے اسکا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کیا کردار تفویض کیا گیا ہے۔ فیصلہ سازی عوامی نمائندوں کا اختیار ہے کیونکہ منتخب نمائندوں کا براہ راست تعلق عوام سے ہوتا ہے۔ عوامی خواہشات اور سہولیات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے تب عوام اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بیوروکریسی کے مزاج میں سختی، ستائش کی خواہش اور غیر لچکدار رویہ نمایاں ہوتا ہے۔ بیوروکریسی عوامی جذبات اور امنگوں کو اہمیت نہیں دیتی انکے سامنے ترقی، تعنیاتی اور تبادلہ کے احکامات افسران سے خوشگوار تعلقات پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے قواعد و ضوابط کی تشکیل میں بیوروکریسی کو اختیار نہیں دیا جاتا۔
    قارئین کرام! جمہوریت کو دنیا بھر میں اسی لیے بہترین نظامِ حکومت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نظام حکومت میں فیصلے عوامی منشا کے مطابق ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازی میں عوام براہ راست شامل ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی مختارِ کل نہیں ہو سکتی۔ قانون کی حاکمیت اور عوامی بالادستی قائم دائم رہتی ہے۔ لیکن جب فیصلہ سازی غیر منتخب افراد کے ہاتھ میں آجائے بیوروکریسی بھی من مرضی کرنے میں آزاد ہوجاتی ہے۔ مفادِ عامہ کو نظر انداز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔پنجاب اور کے پی کے میں آج کل عبوری حکومتیں قائم ہیں۔ پنجاب میں خاص طور پر عبوری حکومت بہت زیادہ متحرک ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد دونوں صوبوں میں قائم عبوری حکومتوں کی معیاد بھی ختم ہو چکی ہے تاہم پاکستان کے آئین میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اگر کوئی عبوری حکومت مقررہ مدت میں انتحابات کا انعقاد کروانے میں ناکام رہے تو ایسی عبوری حکومت کی میعاد میں اضافے کا قانونی جواز کیا ہو گا اور اس دوران عبوری حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی آئینی حثیت کیا ہو گی؟ پاکستان کے دو صوبوں میں عبوری حکومتیں قائم و دائم ہیں۔ انتخابات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن نگران حکومتوں کے نام پر غیر منتخب لوگوں کو اقتدار میں لا کے بٹھانے کی یہ رسم پاکستان سمیت آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ہالینڈ اور کینیڈا میں ہے۔ پاکستان میں اس عبوری بندوبست کے باوجود انتخابات متنازعہ رہتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف نے عبوری حکومت کو تقرر اور تبادلوں کے مکمل اختیارات دینے کا نوٹی فکیشن چیلنج بھی کیا گیا۔ عبوری سیٹ اپ میں مسائل بڑھ جاتے ہیں کیونکہ سب انتخابات کے انعقاد پر فوکس کیے ہوتے ہیں۔ ایسے سازگار ماحول میں بیوروکریسی مزید من مرضی کرنے لگتی ہے۔ بیوروکریسی کو ہمیشہ ترجمان مقامی صحافیوں کے گروپ کا مکمل تعاون حاصل رہتا ہے۔ فوٹو سیشن اور ڈیسک نیوز کا لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ محمکہ تعلقات عامہ کے افسران اور سٹاف سے پہلے ہی بہت عمدہ انداز میں خبریں پیش کی جاتی ہیں۔ پروفیشنل صحافی ایسی سرگرمیوں سے دور ہی رہتے ہیں لیکن یہ ترجمان صحافی رنگ برنگے انداز کے کپڑے پہن کر ڈی سی اور ڈی پی او کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔ ان حرکات سے صحافت بے توقیر اور صحافی بے حیثت تو ہوتے ہی ہیں عام آدمی کے مسائل بھی بڑھتے ہیں۔ صحافت کا ایک حوالہ عوام کی ترجمانی ہے لیکن یہاں سرکاری ترجمانی کے خواہش مندوں کے درمیان مقابلہ مسابقت نے بہت کچھ غیر مناسب کر دیا ہے۔ افسران تعینات ہوتے ہیں اسکے ساتھ ہی یہ گروہ اپنا کام شروع کر دیتا ہے مبارکباد کے ساتھ گلدستہ پیش کیا جاتا ہے۔ پھر کیا صحافتی تقاضے کیا خبروں کا حصول بس خوشنودی اور تابعداری کی لازوال مثالیں قائم ہوتی ہے۔ سر پر صحافت کا تاج سجانے کی بجائے رنگ برنگی پگڑی، چہرے پر خوشامد بکھیرے ہاتھ باندھے تصاویر میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہم نے ایسے مناظر بھی دیکھے ہیں جب شہر گندے پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور چند صحافی ڈی سی اور ڈی پی او کے ساتھ نمائشی کرکٹ میچ کھلینے میں مصروف تھے۔ خبریں سر سبز شہر کی شائع اور نشر ہو رہی تھیں۔ اوکاڑہ میں ایک ڈی سی ایسے آئے ایک طرف شہر میں مسائل ہی مسائل تھے اور ڈی سی اوکاڑہ نے جم خانہ کی تعمیر کا نعرہ مستانہ لگایا پھر کیا تھا مخیر حضرات، تاجر، تنظمیں اور چند صحافی صبح شام ڈی سی کے آگے پیچھے۔ جم خانہ کی تعمیر شروع ہوئی اور ڈی سی کا تبادلہ ہو گیا۔ کروڑوں روپے کی رقم خرچ ہوئی نئے ڈی سی آئے اور انکی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ سب پھر سے بدل گے اور نئے صاحب کی طرح سوچنے لگے۔
    نمائشی میچ کھیلنے سے عوام اور کھلاڑیوں کو فائدہ نہیں ہوتا اس طرز عمل سے فوٹو سیشن اور تصاویر ہی بنوائی جاسکتی ہیں اور عوام میں احساس محرومی ہی بڑھتا ہے۔ڈی سی اوکاڑہ ڈاکٹر ذیشیان حنیف کھیلوں کی سرپرستی اور فروغ کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالہ سے بہترین اقدام کیے۔کمشنر ساہیوال ڈویژن شعیب اقبال اورڈپٹی کمشنر اوکاڑہ ڈاکٹرذیشان حنیف نے مشیر کھیل پنجاب وہاب ریاض کودورہ اوکاڑہ کے دوران ضلعی حکومت کی جانب سے سپورٹس سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ مشیر کھیل پنجاب وہاب ریاض نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کیؐکھلاڑیوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
    جناح اسٹیڈیم اوکاڑہ میں فلڈ لائٹ لگانے کا فیصلہ ہوا ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف نے چکنمبر 45/2L میں 4 ایکڑ اراضی اور چکنمبر 26/2L میں 26 کنال 13 مرلے اراضی کھیل کے گراونڈ کے لئے مختص کی۔ مشیرِ کھیل پنجاب وہاب ریاض نے سرکاری اراضی پر گراونڈ بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے جو اقدامات کیے اس پر انھیں مبارکباد دی اور اس جذبہ کو قابلِ تقلید قرار دیا۔ بلا شعبہ نسلِ نو پر سرمایہ کاری سب سے بہترین فیصلہ ہے اس پر ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ ڈاکٹر ذیشان حنیف مبارکباد کے مستحق ہیں۔ایسے اقدامات کی تعریف اور صاحب کی توصیف بنتی ہے لیکن جب صاحب خود نمائشی میچ کھیلیں اور جم خانہ کی تعمیر جیسی عیاشی کرنے جیسے فیصلے کریں تو ان اقدامات پر تعریف میں زمین و آسمان قلابے ملانا قابل افسوس ہے۔ بیوروکریسی کی معاونت کریں، مسائل کی نشاندہی کی جائے بس یہی صحافت ہے۔ اپنے معمولی فائدہ کے لیے اجتماعی مفاد کو قربان کرنا صحافت نہیں یہ ترجمانی ہے۔
    بیورو کریسی عوام کی ترجمانی نہیں کرسکتی اسی طرح صحافی سرکاری ترجمان نہیں ہوسکتا، صحافی تو معاشرہ کی آنکھ، کان اور زبان ہوتا ہے۔ستم ظرفی صحافی ترجمان اور بیوروکریسی حکمران کا روپ اختیار کیے ہوئے ہیں۔کل کبھی غلط نہیں ہوتا،مسائل کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں اور اوکاڑہ کے موجودہ ڈی سی ڈاکٹر ذیشیان حنیف کو ہمارا سلام، تمام اہل وطن کو عید الاضحی مبارک۔

    209 مناظر