• نیا سفر پرانے چراغ

    تحریر:سلمان احمد قریشی

    9مئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی اپنی پارٹی سے علیحدگی اورجہانگیر ترین کے سرگرم ہونے کے بعد کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کی باز گشت سنائی دے رہی تھی۔توقعات کے عین مطابق جہانگیر ترین نے ’استحکامِ پاکستان پارٹی‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کردیا۔آئی پی پی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ “پرانی شراب نئی بوتل” کے مصداق پی ٹی آئی کے پرانے چہرے نئے پلیٹ فارم سے سیاست کریں گے۔ پاکستان میں سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنا، ایک جماعت سے دوسری جماعت میں باجماعت شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی کل تعداد 168ہے۔اب ان سیاسی جماعتوں میں ایک اور کا اضافہ ہوگیا ہے۔
    پاکستان بنیادی طور پر ایک کثیر التعداد سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے۔ یہاں ہر سیاسی جماعت کو ایک دوسرے سے مِل کر کام کرنا پڑتا ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی، لیکن یہ بھی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو اکیلے ہی حکومت سازی کر سکے بلکہ صرف مخلوط حکومت ہی ممکن ہے۔
    قارئین کرام! عہد حاضر میں موجودہ سیاسی جماعتوں کی عوام کے اندر غیر فعالیت اور عوام کی طاقت پہ کم بھروسہ اور روایتی سیاسی شخصیات کو سیاسی کارکن پر فوقیت دینا ہی اس وقت سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔سیاسی جماعتیں کمزور اور شخصیات طاقت حاصل کرلیتی ہیں اسی وجہ سے پارٹیوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔اس پہلو سے کوئی انکاری نہیں ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو تقسم در تقسیم کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار رہا ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری سیاسی قیادت جن نعروں سے عوام کو متاثر کرتی ہے اور مقبولیت حاصل کرتی ہے کیا وہ خود ان نعروں پر عمل کرتے ہیں یا یہ محض مقبول اور روایتی نعروں سے عوام کے جذبات سے کھیل کر اقتدار ہی حاصل کرتے ہیں۔ تمام فیصلے نظریہ برائے ضرورت کے تحت کیے جاتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ ہم سیاسی و نظریاتی بحران کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے علمی و فکری سرکلز کو ویران کیا ہوا ہے۔ پارٹیوں کے تنظیمی ڈھانچے کمزور ہیں نامزدگیاں سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں نہیں بلکہ لیڈر سے ذاتی تعلقات پر کی جاتی ہیں۔
    آج ہم پاکستان کی مقبول ترین جماعت جو ایک سال قبل تک اکثریتی پارلیمانی جماعت تھی چند دنوں کے اندر ذاتی و گروہی مفادات کی خاطر اب تک تین ٹکڑوں میں تقیسم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اس تقسیم کی ایک وجہ پارٹی چیرمین کا غیر لچکدار رویہ اور خودپرستی ہے۔ دیگر جماعتوں کے کارکنوں کو غلام سمجھنے والے پی ٹی آئی کے کارکن شخصیت پرستی میں ایسا مبتلا ہوئے کہ آئین قانون اور ریاستی اداروں کی عزت و تکریم کی بجائے ایک گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دینے لگے۔ پاکستان میں غیر قانونی گرفتاری کیا پھانسی بھی ہوئی لیکن سیاسی قیادت اور کارکن قانونی راستہ کا ہی انتخاب کرتے آئے۔ 9مئی والا ردعمل کبھی ہماری تاریخ نہ تھی۔
    چیرمین پی ٹی آئی اگرمسائل کو سیاسی انداز سے حل کرتے تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے،مگر فیصل جاوید، فواد چوہدری اور شیخ رشید جیسے گفتار کے غازیوں نے عمران خان کو مقبولیت کے زعم میں ایسا مبتلا کیا کہ وہ معقولیت تک نہ پہنچ سکے۔ ن سے ش نکلنے کی نوید سنانے والے پی ٹی آئی سے آئی پی پی کے جنم پر اب گوشہ نشین ہیں۔
    پاکستان میں نئی سیاسی جماعتوں کا قیام روایت ہے۔اب جہانگیر ترین کی پارٹی، سیاسی تاریخ کی تیز ترین تخلیق ‘استحکام پاکستان’ کا قیام سب جمہوریت پسندوں کو مبارک ہو۔
    سیاسی جماعت کو تو سیاسی نظام کے بارے میں مشترکہ سیاسی نقطہ نظر ، اصول اور اہداف رکھنے والے لوگوں کی انجمن کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
    پارٹی کے ممبر اسمبلی میں اپنے امیدوار کا انتخاب کر کے انتخابات جیتنے اور حکومت میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے مل کر کام کرتے ہیں۔ایک منشور ہوتا ہے ایک نظریہ ہوتا ہے جسکے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آئی پی پی پہلے بن گئی اب باقی معاملات بھی ہو جائیں گے۔تاحال یہ پی ٹی آئی چھوڑنے والے کے لیے مقام عافیت ہے۔ عام پاکستانیوں کے لیے اس جماعت کے پاس کیا ہے یہ وہ سوال ہے جسکا جواب ابھی آنا باقی ہے۔
    اس نئی پارٹی کو ’کنگز پارٹی‘ کہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اگلے عام انتخابات میں یہ پنجاب کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔علیم خان کا کہنا ہے کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں پارلیمان، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں کچھ ایسی چیزیں آپ کے سامنے آئیں گی کہ معلوم پڑے گا کہ ہم نے کتنی محنت کی ہے۔آئی پی پی کے پلیٹ فارم سے روایتی سیاستدان نیا سیاسی سفر شروع کر رہے ہیں، نیا صرف نام ہے باقی چراغ پرانے ہیں۔ہمارے اندھیرے کب دور ہونگے یہ سوال اہم ہے۔کون کس پارٹی میں جاتا ہے اور کون کس سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسمنٹ کرتا ہے یہ سب صرف مفادات کا کھیل ہے۔ہر صاحبِ بصیرت جانتا ہے کہ نئی بوتل میں یہ وہی پرانی شراب ہے۔ نام بدل دینے سے اسکی روح ختم نہیں ہوسکتی۔

    263 مناظر