• اسرائیلی انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری

    اسرائیل میں عام انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے، انتخابات کے نتائج سامنے آنے میں 48 گھنٹے کا وقت لگ سکتا ہے، دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے نتین یاہو کی حکومت کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے۔
    الیکشن حکام کے مطابق انتخابات میں ٹرن آؤٹ 74 فیصد سے زائد رہا، 56 لاکھ 95 ہزار سے زائد اسرائیلیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کے ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ میں سے کوئی بھی 120 رکنی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔

    ایگزٹ پولز کے مطابق حکومتی اتحاد اور حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 51، 51 نشستیں مل سکتی ہیں، عرب جماعتیں 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

    حکومت بنانے کے لئے کسی بھی جماعت کو 120 میں سے 61 نشستںی درکار ہوتی ہیں، اسرائیل کے سیاسی نظام میں کسی ایک جماعت کیلئے پارلیمان کی 61 نشستیں حاصل کرنا مشکل رہا ہے، چھوٹی جماعتیں حکومت سازی کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    اگر دونوں رہنما پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ اتحادی حمایت حاصل نہ کر سکے تو اسرائیل میں طویل سیاسی مذاکرات یا نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔

    دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو دائیں بازو کی ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے، مجھے فتح ملی تو ایرانی خطرے سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیں گے۔
    اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں، ہم اکثریت میں ہیں، جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس پر ایسا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
    انھوں نے زور دیا کہ اب ترجیح ایک نئی صیہونی حکومت‘ کی تشکیل ہونی چاہیے، چاہے وہ ابتدا میں مکمل یا وسیع اتحاد پر مشتمل نہ ہو، بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔

    یائر لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور کنیسٹ اراکین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک بہادر ساتھی اور دوست ہیں، اور میں اس سے بہتر شراکت دار کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔
    اسرائیل میں انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اور وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔

    اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے آئزن کوٹ نے کہا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔

    انہوں نے نیتن یاہو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
    سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت ’یاشر‘ کی رہنما اوریت فرکاش ہاکوہن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انتخابات میں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید نیتن یاہو کی قیادت نہیں چاہتے، نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو تقریباً 20 نشستوں کا نقصان ہوا ہے اور اب ان کے پاس پارلیمان میں اکثریت نہیں رہی، جس کے باعث وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو دوٹوک انداز میں بتا دیا ہے کہ وہ اب ان کی قیادت قبول نہیں کرتے۔

    اوریت فرکاش ہاکوہن کا کہنا تھا کہ ووٹرز نے مختلف ترجیحات اور ایک نئی طرز کی قیادت کے حق میں فیصلہ دے کر تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    83 مناظر