• پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل اور مؤثر نظام موجود ہے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین

    وفاقی آئینی، چاروں ہائیکورٹس، سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پرچم کشائی کی تقاریب ہوئیں جن میں چیف جسٹسز نے خطاب کیا۔
    چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین نے پرچم کشائی کی، ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

    چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین نے کہا کہ پاکستان بے پناہ قربانیوں کا ثمر ہے، ہمارے اجداد کی قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے، پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل اور مؤثر نظام موجود ہے۔
    سپریم کورٹ میں یومِ آزادی کے موقع پر پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے قومی پرچم لہرایا، سپریم کورٹ کے ملازمین کے بچوں سے ملاقات کی اور تحائف تقسیم کیے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آزادی آئینی اقدار کی پاسداری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ساتھ لاتی ہے، ریاستی اداروں پر شہریوں کا اعتماد مضبوط بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے لیے انصاف قابلِ رسائی، بروقت اور بامعنی ہونا چاہئے، قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط بنانا ضروری ہے، ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں سے وابستگی کی تجدید کرنا ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پُرامن، منصفانہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ لاہور کی تاریخی عمارت پر پرچم لہرایا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہا کہ اللہ کے خاص کرم سے آج ہم اپنا 79 واں جشنِ آزادی منا رہے ہیں، وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔، ہمارا فریضہ ہے کہ اس وطن کی سربلندی کے لئے دن رات محنت محنت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کی عدلیہ بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی کےلئے کوشاں ہے، کچھ سال پہلے تک زیرالتواء مقدمات کو نمٹانا ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج تھا، لاہور ہائیکورٹ نے 2025 میں تاریخی طور پر 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں گزشتہ 2 سالوں میں 80 لاکھ سے زائد مقدمات کے فیصلے کئے، اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کے فیصلے کرنا اتنا آسان نہ تھا، ہمارے ججز نے اس ملک و قوم کے لئے دن رات محنت کی۔
    چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے پرچم کشائی کی، سندھ ہائی کورٹ کے دیگر ججز اور وکلا کی بڑی تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔

    چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے کہا کہ آج بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے اکابرین و کارکنان کی قربانی اور جدوجہد کو یاد رکھنے کا دن ہے، روپلو کولھی اور سوریہ بادشاہ جیسے آزادی کے متوالوں نے استعماریت کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ قوم تاقیامت شہدا کی مقروض رہے گی، یوم آزادی ایمان اتحاد اور نظم و ضبط کے ساتھ ملک کی ترقی کے لئے کام کرنے کی یقین دہانی کرواتا ہے، رنگ نسل اور زبان سے بالاتر ہوکر متحد رہنے کا درس دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط معاشرے میں وکلا کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، وکلا قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کے ضامن ہوتے ہیں، مضبوط ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں آزاد اور منصفانہ عدلیہ کا کردار اہم ہے۔

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آزاد عدلیہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتی ہے، بروقت اور سستے انصاف کی فراہمی معاشرے سے بے چینی کا خاتمہ ہوتا ہے، غیر جانبدارانہ فیصلے ملکی اور معاشرتی استحکام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
    مظفر آباد میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سعید اکرم نے پر چم کشائی کی، تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز نے شرکت کی، مظفرآباد : تقریب میں سکول کے بچوں نے ملی نغمے بھی گائے۔

    چیف جسٹس راجہ سعید اکرم نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی دفاعی طاقت ہے، آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان نے بہت کچھ دیا، آزاد کشمیر میں جو بھی آزادی ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔

    چیف جسٹس راجہ سعید اکرم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک لیفٹینٹ گورنر نے سب اختیارات اپبے پاس رکھے ہیں، مظفرآباد : آزاد کشمیر میں پاکستان نے سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور قانون ساز اسمبلی دی ہے۔
    چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران ملاخیل نے پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن اللّٰہ نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے نوازا، قوموں کی اصل قوت اتحاد و اتفاق میں ہے۔

    چیف جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے نہیں بلکہ ناانصافی ختم کرنے آتے ہیں، انصاف کو صرف عدالتوں تک محدود نہ کریں، زندگی کے ہر شعبے میں انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔

    کامران ملاخیل نے کہا کہ والدین، اولاد، رشتہ داروں، ہمسایوں اور ماتحتوں کے ساتھ انصاف کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اگر ہم اپنی زندگی میں انصاف سے چلنے کا عہد کریں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں، بہن بھائی جائیداد میں ایک دوسرے کا حق تسلیم کریں تو مقدمہ بازی کم ہو جائے گی۔

    جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ انصاف کریں تو وہ اپنے فرائض بہتر انداز میں ادا کر سکیں گے، جب لوگوں سے ناانصافی کا اندیشہ ختم ہوگا تو وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیں گے، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی حالت بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

    33 مناظر