
شامی عدالت نے سابق صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی
شام کی عدالت نے مفرور سابق صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنا دی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شام کے معزول صدربشارالاسد کو ان کی غیرموجودگی میں سزاسنائی گئی۔
شام کی عدالت نے بشارالاسد دورکے سکیورٹی عہدیدار اور بشار الاسد کے کزن عاطف نجیب کوبھی سزائے موت سنائی، سزائے موت سنائے جانے کے وقت عاطف نجیب کمرہ عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے ملزمان کا مخصوص لباس بھی پہن رکھا تھا۔
شامی عدالت کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کو پیشگی منصوبہ بندی اور جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔
بشار الاسد شام کے سابق صدر ہیں، وہ پیشہ کے لحاظ سے وہ آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے لندن سے تربیت حاصل کی تھی، بشار الاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا اور جولائی 2000ء سے دسمبر 2024ء تک شام پر حکومت کی۔
2011ء میں عرب بہار کے دوران شام میں جمہوریت کے حق میں احتجاج شروع ہوئے، حکومت نے ان مظاہروں کے خلاف سخت فوجی طاقت کا استعمال کیا، جو بعد میں ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔
شامی خانہ جنگی (2011ء تا حال) کو موجودہ صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا گیا ہے، جس میں اب تک 5 لاکھ سے 6 لاکھ سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور نصف سے زیادہ شامی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
دسمبر 2024ء میں باغیوں کے دارالحکومت دمشق پر قبضے کے بعد بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور وہ روس فرار ہو گئے، جس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کی نصف صدی سے زائد طویل حکمرانی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
11 مناظر