
عرب اتحادیوں کی دوری، امریکا کا ایران پر حملوں سے عارضی گریز کا فیصلہ
امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس کے مطابق مریکی صدر نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعے کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی، اس کے ساتھ ہی تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ حملوں کا سلسلہ رک گیا۔
خیال رہے کہ 13 دنوں بعد جمعہ کی رات پہلی رات تھی جب امریکا نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا، جبکہ ہفتے کی رات بھی کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو مشرق وسطی میں دفاعی نظام متاثر ہونے سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق جنگ میں شدت آنے کی صورت میں پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہوں گے، ایران جنگ میں شدت سے دیگر فضائی دفاعی نظام کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو سکتے ہیں، تاہم فوج تمام احکامات پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن نتائج پر بھی غور ضروری ہے۔
سی این این کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کشیدگی بڑھانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف ذرائع کے مطابق عمانی وفد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے نئے انتظامات پر بات چیت کیلئے تہران پہنچا تھا، مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام تک معاہدہ طے پا جائے گا۔
26 مناظر