
وزیر دفاع خواجہ آصف کے لیسکو اہلکاروں پر بغیر رسید رقم وصولی کے الزامات، ایکسین، ایس ڈی او سمیت 5 معطل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے لیسکو اہلکاروں پر واردات کا الزام لگایا ہے کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے 80 ہزار روپے رسید دیئے بغیر وصول کر لیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا ہے کہ میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا، لیسکو کے ایک پرانے مہربان کو فون کیا کہ کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا، 80 ہزار روپے لیے، گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو 80 ہزار روپے ادا کیے مگر رسید کسی نے نہیں دی، باقی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی لکھا کہ یہ حال ہے کہ بجلی کا ایک سابق وزیر سفارشی ہو اور وہ موجودہ کابینہ کا رکن بھی ہو، اس کی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا، عام صارف کا کیا حال ہو گا، رقم کی باقاعدہ ادائیگی ہوئی ہے، لیسکو رسید سے انکاری ہے۔
بعدازاں لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے ٹویٹ پر نوٹس لے لیا، ایکسین پھول نگر اور ایس ڈی او پتوکی معطل کر دیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق پتوکی سب ڈویژن کا دیگر عملہ بھی معطل کیا گیا، ٹرانسفارمر کو غیر قانونی مرمت کرنے اور کروانے والوں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر دی گئی۔
دوسری جانب رشوت دینے کے معاملہ پر چیف ایگزیکٹو لیسکو رمضان بٹ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
لیسکو ذرائع کے مطابق منیجر ایس اینڈ آئی نے تحقیقات شروع کردیں، وفاقی وزیر خواجہ آصف کے باورچی ایوب کا آبائی علاقہ پتوکی چک 27 ڈھولن سے ہے۔
عید کے بعد ڈھولن گاؤں کا 100 کے وی کا ٹرانسفارمر چل گیا، جس کی لیسکو کو شکایت کی گئی تھی، رہائشوں نے 100 کے وی کے بجائے 200 کے وی کا ٹراسفارمر لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ لیسکو نے 200 کے وی ٹراسفارمر متاثرہ علاقے میں لگانے کی منظوری دے دی تھی، چک ڈھولن کے لوگوں نے شبیر نامی شخص کو 80ہزار روپے دے کر ٹرانسفارمر خود مرمت کروایا تھا۔
غفلت برتنے پر لائن مین شوکت علی، فلک شیر اور لائن سپرنٹنڈنٹ محمد حسین کو معطل اور ٹرانسفارمر مرمت کرنے والے شبیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
24 مناظر